شادی کے شرعی اور غیر شرعی طریقے 

تحریر: مولانا شمس پیر زادہؒ ۔۔۔ ترتیب: عبدالعزیز
(چوتھی قسط)
شادی میں فوٹو گرافی: شادی کی تقریبات میں فوٹو گرافی نیا ذوق ہے۔ اسٹیج پر دولھا اور دلہن کے منٹ منٹ پر فوٹو کھنچوائے جاتے ہیں، تاکہ مبارکباد دینے والوں کے ساتھ نکالے ہوئے فوٹو یادگار رہیں، چنانچہ ان کے البم بنائے جاتے ہیں۔موبائل فون آجانے کے بعد تو فوٹو گرافی اور بھی آسان ہوگئی ہے۔ حاضرین کو بھی بخشا نہیں جاتا، یہاں تک کہ باپردہ اور بے پردہ خواتین کے بھی فوٹو کھینچ لئے جاتے ہیں اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان کے باقاعدہ ویڈیو کیسٹ تیار کرلئے جاتے ہیں۔ یہ کام بالکل مباح سمجھ کر کیا جاتا ہے، حالانکہ اس میں کئی قباحتیں ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فوٹو کا جواز ضرورت کی حد تک ہے، اس کو ایک فیشن بنا لینا اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ ذوق خود پسندی اور خودنمائی کا مذموم جذبہ پیدا کرتا ہے جو اپنے اوپر فخر کرنے اور اترانے پر آمادہ کرتا ہے اور یہ خصلت ہے جو اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ تیسری بات ان تصویروں کا استعمال ہے۔ دلہن کے فوٹو اجنبی مردوں (غیر محرم)رشتہ داروں اور دوستوں کو دکھائے جاتے ہیں نیز شرکاء خواتین فوٹو بھی۔ جبکہ اسلام نے عورت کو حیا کی چادر دی ہے اور اجنبی مردوں کے سامنے زینت کے اظہار سے منع کیا ہے مگر لوگ متقی بننے کے بجائے ماڈرن بننا پسند کرتے ہیں۔اس لئے وہ بڑے اہتمام کے ساتھ غیر شرعی کام کرتے ہیں۔ 
تحفے تحائف: ہدیہ دینا شرعاً ایک پسندیدہ چیز ہے۔ حدیث میں آتا ہے۔ ’’ہدیہ دو اور ایک دسرے سے محبت کرو‘‘۔ 
معلوم ہوا کہ ہدیہ خلوص و محبت کے جذبہ سے ہونا چاہئے۔ اگر محض رسم کی خانہ پری کرنے کیلئے ہو یا نام و نمود کیلئے ہو تو ہدیہ کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔ قرآن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آغاز رسالت ہی میں اخلاقی عظمت کی تعلیم دی، چنانچہ سورہ مدثر میں فرمایا: 
’’وَلاَ تَمْمُنْ تَسْتَکْثِرْ‘‘ ۔۔۔ (لوگوں پر اس لئے احسان نہ کرو کہ تمہیں (بدلہ میں) زیادہ مل جائے‘‘ (مدثر:6)۔ 
یعنی بدلہ کیلئے احسان نہ کرو اور آدمی جب بدلہ چاہتا ہے تو جو کچھ اس نے دیا ہے اس سے زیادہ ہی چاہتا ہے، ورنہ برابر سرابر کا کیا فائدہ۔ بدلہ حاصل کرنے کا یہ ذہن بہت غلط ہے۔ کسی پر احسان نہ کیا جائے تو کسی بدلہ کی امید رکھے ورنہ وہ احسان یا ہدیہ مخلصانہ نہیں ہوگا۔ 
شادی کے موقع پر دولھا اور دلہن کو جو تحفے اور ہدیے دیئے جاتے ہیں وہ شاذ ہی خلوص پر مبنی ہوتے ہیں۔ ورنہ عام طور سے یا تو بدلہ کی نیت سے دیئے جاتے ہیں یا اس نیت سے کہ اگر کچھ نہ دیا جائے تو برا مانیں گے۔ گویا یہ رسم کا دباؤ ہے جو تحفہ دینے پر مجبور کرتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو شخص یا جو عورت تحفہ دینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتی وہ ناگواری سے بچنے کیلئے شادی میں شرکت ہی نہیں کرتی۔ لفافوں میں پیسے دینے کا رواج عام ہے جو کسی طرح مناسب نہیں۔ پھر ان تحفوں کی دینے والوں کے ناموں کے ساتھ باقاعدہ لسٹ بنائی جاتی ہے، تاکہ جنھوں نے تحفے دیئے ہیں ان کے ہاں جب کوئی شادی ہو تو بدلہ میں ان کو تحفہ دیا جاسکے۔گویا یہ تحفے قرض ہوتے ہیں جن کا باقاعدہ حساب کتاب رکھنا پڑتا ہے۔ اس کے بعد بھی ان تحفوں کو رسمی تحفے نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جائے! اب لوگ بھی ان رسمی تحفوں کے کھوکھلے پن کو محسوس کرنے لگے ہیں، اس لئے وہ شادی کے دعوت نامہ پر لکھ دیتے ہیں ’’دعاؤں کا تحفہ کافی ہے یا "No Present PLease" البتہ اگر اس موقع پر اصلاح کے پیش نظر دینی کتابوں کا تحفہ پیش کیا جاسکے۔ خاص طور سے قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی ترغیب دینے کیلئے قرآن کریم کا ترجمہ و تفسیر تو یہ ایک بہترین اور مخلصانہ تحفہ ہوگا۔ 
مہر: مہر نکاح کی حلت (جائز ہونے) کیلئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مرد پر عائد کردہ ایک فریضہ ہے جسے خوش دلی کے ساتھ ادا کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور یہ درحقیقت شوہر کی طرف سے بیوی کیلئے ہدیہ محبت ہے؛ چنانچہ جب مرد مہر کی پیشکش کرتا ہے تو بیوی پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوئے ہیں اور شوہر سے الفت بڑھتی ہے۔ شریعت نے مہر کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں کی بلکہ اس کو مرد اور عورت کی صوابدید پر چھوڑا ہے کہ وہ جو مناسب سمجھیں آپس میں طے کرلیں۔ مرد کی حیثیت کے مطابق یہ کم بھی ہوسکتا ہے اور زیادہ بھی، نقد بھی ادا کیا جاسکتا ہے اور تاخیر سے بھی مگر مقصد ادا کرنا ہو نہ کہ صرف رسمی طور پر باندھنا۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کا مہر جیسا کہ حدیث میں آتا ہے پانچ سو درہم تھا (صحیح مسلم)۔ درہم تقریباً تین گرام چاندی کا ہوا کرتا تھا۔ اس حساب سے پانچ سو درہم تقریباً پندرہ سو گرام (1500) چاندی کے برابر ہوئے، یعنی ڈیڑھ کیلو چاندی جو موجودہ نرخ (مئی 1996ء) سے دس ہزار روپئے سے زائد قیمت کی ہوتی ہے۔ حضرت ام حبیبہؓ کا مہر تو نجاشی نے اپنے پاس سے ادا کیا تھا جو چار ہزار درہم تھا؛ یعنی بارہ کیلو چاندی جو موجودہ نرخ سے تقریباً لاکھ روپئے سے زائد قیمت کی ہوتی ہے۔ (ابوداؤد: کتاب النکاح)
رہا حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر تو وہ بھی چار سو مثقال چاندی تھا (تحفۃ الاحوذی بشرح الترمذی، ج4ص256)۔ یعنی ایک کیلو سات سو گرام چاندی جس کی قیمت موجودہ نرخ سے تقریباً پندرہ ہزار روپئے ہوتی ہے۔ اس لئے یہ خیال صحیح نہیں کہ حضرت فاطمہؓ کا مہر بہت معمولی تھا۔ 
ہندستان کے مسلمانوں میں مہر کے معاملہ میں افراط و تفریط پائی جاتی ہے اور اس کی وجہ مہر کو رسمی بناکر محض خانہ پری کرنا ہے۔ کہیں تو چالیس تولہ سونے کا مہر ایک رسم کے طور پر چلا آرہا ہے۔ اس لئے اتنا ہی مہر باندھا جاتا ہے، قطع نظر اس سے کہ شوہر کی حیثیت کیا ہے اور اس کیلئے اس کی ادائیگی آئندہ چند سالوں میں بھی ممکن ہے یا نہیں۔ دوسری طرف ایسے خاندان بھی ہیں جن میں پچیس روپئے یا سوا سو روپئے مہر کا رواج چلا آرہا ہے، جو موجودہ زمانہ مٰں ایک بے معنی سی بات ہے۔ شادی کے ڈیکوریشن اور دعوت وغیرہ پر تو شوہر ہزارہا روپیہ خرچ کر دیتا ہے لیکن بیوی کو مہر کا جو تحفہ دیتا ہے وہ ایک سو پچیس روپیہ۔ سوچئے یہ مہر کی بے وقعتی نہیں تو اور کیا ہے؟ 
موجودہ زمانہ میں عورت کیلئے بڑے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ان کے حقوق صحیح طور سے ادا نہیں کئے جاتے اور طلاق دینے میں عجلت سے بھی کام لیا جاتا ہے اور طلاق کی کثرت بھی ہوگئی ہے جس کے بعد عورت کیلئے رہائش اور نفقہ کے مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ان حالات کا تقاضا یہ ہے کہ مہر کے معاملہ میں رسمی طریقہ پر چھوڑ کر معقول طریقہ اختیار کیا جائے۔ جہاں تک ہوسکے مہر معجل (نقد) ہو اور ایک صاحب حیثیت آدمی کو اپنے شایانِ شان مہر کی پیشکش کرنا چاہئے۔ زیادہ مہر دینا شریعت میں کوئی ناپسندیدہ بات نہیں۔ قرآن کریم کی آیت کا ترجمہ: 
’’اگر تم نے ایک بیوی کو ڈھیروں مال بھی دے رکھا ہو تو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو‘‘ (سورہ نساء:20 ) سے یہ اشارہ نکلتا ہے۔ شریعت کا منشاء مہر کو بے وقعت بنانا ہر گز نہیں ہے اور نہ اس کا یہ منشا ہے کہ مرد کی حیثیت سے قطع نظر بڑے بڑے مہر کا مطالبہ کیا جائے جس کے نتیجہ میں مرد کیلئے نکاح کرنا آسان نہ رہے اور عورتیں بھی غیر شادی شدہ رہ جائیں۔ اسلام کی راہ اعتدال کی بھی اور ضرورت کے مطابق اصلاح کی بھی ہے۔ اس لئے شریعت کے منشاء کو ملحوظ رکھتے ہوئے معقول اور معروف طریقہ اختیار کرنا چاہئے۔ 
ولیمہ: نکاح کے تعلق سے جو دعوت مسنون ہے وہ صرف ولیمہ ہے۔ ولیمہ شوہر کے ذمہ ہے اور وہ نکاح کے بعد ہے نہ کہ نکاح سے پہلے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا کہ میں نے نکاح کرلیا ہے تو آپؐ نے فرمایا: ’’ولیمہ کرو اگر چہ ایک بکری کا ہو‘‘ (بخاری: کتاب النکاح)۔ 
اس زمانہ میں گوشت کیلو کے حساب سے بازار میں دستیاب نہیں ہوتا تھا بلکہ بکری ذبح کرنا پڑتی تھی جس کی قیمت دس درہم (30 گرام چاندی: تقریباً پانچ سو روپئے) تھی۔ گویا بکری معمولی قیمت پر مل جایا کرتی تھی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک بکری کا ولیمہ تو کرہی لو۔ 
ولیمہ اپنی حیثیت کے مطابق چھوٹے پیمانہ پر بھی کیا جاسکتا ہے اور بڑے پیمانہ پر بھی اور نفیس کھانے بھی پیش کئے جاسکتے ہیں اور معمولی کھانے بھی، مگر اسراف اور نمائش سے بچنا ضروری ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینبؓ کے ولیمہ میں بکری ذبح کی تھی (بخاری، کتاب النکاح) اور روٹی اور گوشت پیش کیا تھا، (مسلم، کتاب النکاح)۔ اس ولیمہ میں کافی لوگوں کو اپنے گھر مدعو کیا تھا، لیکن بعض ازواج کا ولیمہ آپؐ نے صرف دو مُد )ایک کیلو سے کچھ زائد) جَو سے کیا تھا، (بخاری، کتاب النکاح)۔ حضرت صفیہؓ کا ولیمہ غزوۂ خیبر سے لوٹتے ہوئے دورانِ سفر کیا تھا۔ اس لئے اس میں کھجور اور ستو پیش کیا گیا تھا، (ترمذی، کتاب النکاح)۔ معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص روٹی اور سالن ولیمہ میں پیش نہ کرسکے تو کھانے پینے کی دوسری اشیاء سے بھی تواضع کی جاسکتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ حضرت اُسیدساعدی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی شادی میں مدعو کیا تو ان کی بیوی نے اس حال میں کہ وہ دلہن تھیں تواضع کی اور آپ کی خدمت میں کھجور کا شربت پیش کیا، (بخاری، کتاب النکاح)؛ گویا موجودہ عرف کے مطابق ولیمہ میں سُویٹ ڈِش (میٹھی چیز) یا کوئی مشروب پیش کیا جاتا ہے تو مناسب ہی ہے۔ 
ولیمہ میں غریبوں کو بھی مدعو کیا جانا چاہئے۔ حدیث میں خاص طور سے اس کی تاکید آئی ہے اور اس کھانے کو برا کھانا کہا گیا ہے جس میں امیروں کو بلایا جائے اور غریبوں کو نظر انداز کیا جائے، (مسلم، کتاب النکاح)۔ 
آج کل بڑے پیمانہ پر ولیمہ کرنے اور اس میں بہت زیادہ پُر تکلف کھانے پیش کرنے نیز اس کیلئے کسی گراؤنڈ وغیرہ میں نمائشی حد تک ڈیکوریشن کرنے کا رواج بڑھتا جارہا ہے۔ ان تکلّفات کی وجہ سے ولیمہ پر لاکھوں روپئے خرچ کئے جاتے ہیں۔ شریعت نے ولیمہ کا ایسا اہتمام کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیا۔ آخر یہ کیا ضروری ہے کہ ولیمہ کی دعوت اس بڑے پیمانہ پر دی جائے کہ واقف کاروں میں سے کوئی بھی چھوٹنے نہ پائے؟ شادی کی یہ غیر ضروری اہمیت موجودہ سوسائٹی کی اپنے ذہن کی اُپج ہے اور اپنی بے جا خواہشات کی تکمیل کا سامان ہے، ورنہ اسلام نے ہر معاملہ میں میانہ روی اور سادگی کی تعلیم دی ہے۔ نکاح کو آسان بنانا اور خرچ کے لحاظ سے اس کو بوجھل نہ بنانا ہی سوسائٹی کے حق میں مفید ہے۔ اس لئے ایسی شادیوں اور ایسے ولیموں کی قدر افزائی نہیں کی جانی چاہئے جس میں اسراف کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ رہا ولیمہ کا وقت تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نکاح کے دوسرے دن ولیمہ کیا ہے جس کی مصلحت یہ سمجھ میں آتی ہے کہ مرد عورت کے درمیان زن وشوئی کے تعلقات قائم ہوچکے ہوتے ہیں جو نکاح کا اصل مقصد ہے۔ اس لئے اس مقصد کے پورا ہوجانے پر دعوتِ ولیمہ کرنا مناسب ہے لیکن اس وقت کو ولیمہ کیلئے شرط نہیں قرار دیا گیا ہے؛ چنانچہ حضرت ام حبیبہؓ کو آپ نے حبش میں نکاح کا پیغام دیا تھا اور آپ کی غیر موجودگی میں نکاح کے لوازمات نجاشی نے پورے کئے تھے۔ اس نے اس موقع پر دعوتِ ولیمہ بھی کی تھی، (دیکھئے ؛ عون المعبود، ج 6، ص105 اور 108)۔ حضرت ام حبیبہؓ کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات تو ان کے مدینہ واپس آجانے پر ہوئی اور اس موقع پر کوئی ولیمہ نہیں کیا گیا۔ جو ولیمہ عقد کے بعد نجاشی نے حبش میں کیا تھا اس کا جواز ثابت ہوتا ہے (اس واقعہ کیلئے دیکھئے طبقات ابن سعد، ج 8، ص98)۔ متعدد فقہاء کی رائے میں ولیمہ کا وقت عقد نکاح کے بعد شروع ہوتا ہے خواہ اس دن کیا جائے یا دوسرے دن۔ فقہ السنہ میں ہے: ’’ولیمہ کا وقت عقد کے موقع پر یا اس کے بعد ملاپ کے موقع پر یا اس کے بعد ہے۔ اس معاملہ میں وسعت ہے عرف و عادت کے مطابق‘‘ (فقہ السنہ: سید سابق ، ج 2، ص236)۔ 
بخاری کے شارح حافظ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں: ’’ولیمہ کے وقت کے مسئلہ میں سلف کا اختلاف ہے۔ آیا عقد کے وقت ہے یا اس کے بعد یا ملاپ کے وقت ہے یا اس کے بعد، یا اس میں عقد کے آغاز سے ملاپ ختم ہوجانے تک وسعت ہے؟ اس بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ نووی لکھتے ہیں کہ اس میں علماء کا اختلاف ہے؛ چنانچہ قاضی عیاض نے بیان کیا ہے کہ مالکیہؒ کے نزدیک صحیح تر قول یہ ہے کہ ولیمہ کا مستحب وقت مباشرت کے بعد ہے اور ان میں سے ایک گروہ کی رائے میں عقد کا وقت ہے۔۔۔ اور مالکی مسلک کے بعض اصحاب کے نزدیک رخصتی کے موقع پر؛ یعنی شب زفاف سے پہلے ولیمہ کرنا بہتر ہے اور آج کل لوگوں کا عمل اسی پر ہے‘‘ (فتح الباری: ج9، ص189)۔ 
کتاب الفقہ علی المذاہب الاربعہ میں ہے کہ چاروں فقہی مسلکوں میں ولیمہ کا مستحب وقت عقد نکاح کے بعد ہے، (الفقہ علی المذاہب الاربعہ: ج2، ص33-34)۔ (جاری)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com