با حجاب اور بے حجاب عورت

تحریر: محمد عرفان چودھری
سب سے پہلے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی غیر اسلامی حکومت سے گزارش ہے کہ دین کا معاملہ نہائت نازک اور سنگین ہوتا ہے اوردین کے معاملے میں خواہ وہ مسلمان ہوںیا عیسائی، یہودی، ہندو، سکھ یا کوئی اور مذہب ہو کوئی بھی مذہب کا پیروکار یہ ہرگز برداشت نہیں کرتا کہ اُس کے مذہب کے بارے میں غلط تشریح کی جائے اس لئے حکومت وقت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اُن عناصر پر کڑی نظر رکھے جو کہ دینی نظریات کی غلط ترویج کر رہے ہیں خاص کر دجالی سوشل ، پرنٹ و الیکٹرونک میڈیا پر اور کسی بھی مذہب کے متعلق اگر کوئی پروگرام کرنا مقصود ہو تو اُس مذہب کے جید علماء، پادری، پنڈت یا جو بھی ذمہ دار شخص ہو اُن کی خدمات حاصل کی جائیں نا کہ وہ لوگ ہوں جو مذہب کو توڑ مڑوڑ کر پیش کریں اورجن کا مذہب صرف پیسہ اور سستی شہرت ہو، اب بات کرتے ہیں کہ چند دن سے میڈیا پر خواتین کے حجاب کرنے یا نا کرنے پر گرما گرم بحث ہو رہی ہے جس کا آغاز صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم سید رضا علی گیلانی نے کیا جنہوں نے پنجاب میں خواتین کے حجاب کرنے پر پانچ نمبر اضافی دینے کی تجویز دی اُس کے بعد سے ہر طرف حجاب ہی کے چرچے ہو رہے ہیں کوئی حجاب کے حق میں بات کر رہا ہے تو کوئی حجاب کی مخالفت میں ہر کوئی اپنے ذوق و ظرف کے مطابق بات کر رہا ہے اسی سلسلے میں میاں عبدالمنان جو کہ مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ایک ٹی وی شو میں حجاب کے حق میں بات کرتے ہوئے خاتون اینکر پرسن کی جانب سے اشتعال دلانے پر بڑے سیخ پاء نظر آئے اینکر پرسن نے بڑی آسانی سے کہہ دیا کہ ’’ دین میں جبر نہیں ہے‘‘ اس بات پراُن کا سیخ پاء ہونا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ شائد میڈیا کے خاص اینکر پرسنز اسلام پر بھونکنے کے علاوہ اور کوئی کام نہیں جانتے اسلام کی الف سے ناواقف اُس خاتون اینکر پرسن کے لئے وہی آیت جس کا بہت سے لوگ غلط استعمال کرتے ہیں کی تفصیل کچھ یوں ہے
’’ دینِ اسلام میں کوئی زبردستی نہیں ہے ، ہدایت صاف طور پر ظاہر اور گمراہی سے الگ ہو چکی ہے ، تو جو شخص بتوں سے اعتقاد نہ رکھے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے ایسی رسی ہاتھ میں پکڑ لی ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں اور اللہ سب کچھ سنتا ہے سب کچھ جانتا ہے‘‘ (سورۃ البقرۃ ۔ آیت نمبر 256) سورۃ البقرۃ کی اس آیت کی علماء کرام تفسیر کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ انصار کہ کچھ نوجوان عیسائی اور یہودی ہو گئے تھے اور پھر یہ انصار جب مسلمان ہو گئے تو اُنہوں نے اپنی نوجوان اولاد کو جو عیسائی اور یہودی بن چکے تھے اُن کو زبردستی مسلمان بنانا چاہا جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی مگر ہم میں سے بہت سے نام نہاد مسلمان اللہ کے احکامات کو نا ماننے کے لئے اللہ کی نازل کردہ آیتوں کو صرف اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور کچے ذہن کے لوگوں کو میڈیا کی توسط سے ورغلاتے ہیں جو کہ سراسر اللہ کے احکامات سے روگردانی ہے اُن کے لئے اللہ تعالیٰ وعید کے طور پر فرماتا ہے کہ ’’ یہ کیا بات ہے کہ تم کتاب اللہ کے بعض احکام کو تو مانتے ہو اور بعض سے انکار کئے دیتے ہو تو جو تم میں سے ایسی حرکت کریں ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ دُنیا کی زندگی میں تو رسوائی ہو اور قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب میں ڈال دیے جائیں اور جو کام تم کرتے ہو اللہ ان سے غافل نہیں‘‘ سورۃ البقرۃ۔ آیت نمبر 85 ‘‘ قارئین کرام یہ حصہ تو اُن اینکر پرسنز کو ہوش میں لانے کے لئے بیان کیا گیا جو یہودی لابی کو خوش کرنے کے لئے اپنے ایمان تک کو بیچنے پر تیار رہتے ہیں جو کہ صرف اور صرف گھاٹے کا سودا ہے اور بہت جلد اُن سے اللہ کے ہاں باز پُرس ہونے والی ہے اب بات کرتے ہیں حجاب کی آخر یہ حجاب ہے کیا حجاب عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی رکاوٹ یا منقسم کرنے کے ہیں مگر اسلام میں حجاب کا مطلب بڑا وسیع تر ہے جس کی تشریح مختلف مکتبہ فکر کے گرد مختلف ہے بعض فرقوں کے نزدیک حجاب کا مطلب سر اور چہرے کو دونوں مخالف سمتوں سے ڈھانپ کر رکھنا ہے جبکہ بعض مسالک کے قریب حجاب کا مطلب پورا جسم ڈھانپنا ہے یہاں پر تمام فرقوں سے ہٹ کر اگر بات کی جائے تو قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ
’’ اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش یعنی زیور کے مقامات کو ظاہر نا ہونے دیا کریں مگر جو اس میں سے کھلا رہتا ہو، اور اپنے سینوں پر اوڑھنیاں اوڑھے رہا کریں اور اپنے خاوند اور باپ اور خسر اور بیٹوں اور خاوند کے بیٹوں اور بھائیوں اور بھتیجوں اور بھانجوں اور اپنی جیسی مومن عورتوں اور لونڈی غلاموں کے سوا نیز ان خدام کے جو عورتوں کی خواہش نا رکھیںیا ایسے لڑکوں کے جو عورتوں کے پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں غرض ان لوگوں کے سوا کسی پر اپنی زینت اور سنگھار کے مقامات کو ظاہر نہ ہونے دیں ، اور اپنے پاؤں ایسے طور سے زمین پر نہ ماریں کہ جھنکار کانوں میں پہنچے اور ان کا پوشیدہ زیور معلوم ہو جائے اور مومنو سب اللہ کے آگے توبہ کرو تا کہ فلاح پاؤ‘‘ (سورۃ النور۔ آیت نمبر 31) ان اور ان جیسی دوسری بہت سی آیات اور آپﷺ کی احادیث سے اللہ کا حکم صاف واضح ہوتا ہے کہ عورتیں کسی بھی غیر محرم کے سامنے بغیر پردے کے نہیں آ سکتیں دوسری بات اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حافظ قرآن کو اضافی نمبر دئے جاتے ہیں کیونکہ حافظ قرآن اپنے سینے میں اللہ تعالیٰ کا کلام سموئے ہوئے ہوتے ہیں بالکل اسی طرح عورتوں کا حجاب بھی اللہ کے دین کی پاسداری ہے جس سے معاشرے میں بڑی حد تک پائی جانے والی خرافات کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکتا ہے کیونکہ انسانی فطرت کے تحت ہر صنف مخالف صنف کی جانب مائل ہوتی ہے اس لئے جیسے اللہ تعالیٰ نے مردوں کو اپنی نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے اسی طرح عورتوں کو بھی اپنی نظریں نیچی رکھنے اور پردہ کرنے کا حکم دیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ عورت اپنا آپ اچھی طرح ڈھانپ کر رکھے تا کہ اُس کا ظاہری حسن اور جسم کے پوشیدہ اعضاء نمایاں نا ہونے پائیں اس طرح عورت اپنے آپ کو مکمل آزاد محسوس کرے گی اور بُری نظروں سے بھی محفوظ رہے گی اس کے ساتھ ساتھ عورتوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو پردے کا حکم فرمایا ہے اُس کی بھی تعمیل ہو گی اس لئے ضروری ہے کہ تعلیمی اداروں میں اور نوکری کے لئے با حجاب عورت کو حافظ قرآن کی طرح اضافی نمبر دیے جائیں اس سے معاشرے میں حجاب کو تقویت بھی ملے گی اور بڑی حد تک بُرائیوں کا خاتمہ بھی ممکن ہوگا اس کے ساتھ حکومت پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے درخواست ہے کہ پاکستان کی تمام جامعات خواہ وہ مخلوط نظام تعلیم پر مبنی ہو یا خواتین کی علٰحدہ درسگاہیں ہوں، مدارس ہوں یا خواتین کے کام کرنے کی جگہیں حکومتی سطح پر ایک سروے کروایا جائے جس میں 
با حجاب اور بے حجاب عورتوں سے حجاب کے متعلق سوالات کئے جائیں کہ حجاب کرنے یا نا کرنے سے کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، عورت حجاب میں پُر سکون ہوتی ہے یا بغیر حجاب کے، راہ چلتے ہوئے حجاب والی اور بے حجاب عورت دونوں کے متعلق مردوں کے کیا تاثرات ہوتے ہیں، اسی طرح مرد حضرات سے سوال کیا جائے کہ وہ با حجاب اور بے حجاب عورتوں کے متعلق کیا رائے رکھتے ہیں؟ زاتی رائے کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے احکامات بھی بیان کئے جائیں اس طرح کے سروے سے اُمید ہے کہ بہت سی خواتین کو
جواب مل جائے گا کہ عورت کس طرح اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتی ہے با حجاب ہو کر یا بے حجاب رہ کر اور آخر میں والدین سے بھی گزارش ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت عین مذہبی اصولوں کے مطابق کریں تا کہ اُن کی اور اُن کے بچوں کی دنیاوی و آخروی زندگی سنور سکے ۔ 
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ ہر مسلمان مرد و عورت کو راہِ ہدائت پر چلنے کی توفیق عطا ء فرمائے اور پاکستان میں شرعی نظام نافذ کرنے کے لئے پاکستان کے حکمرانوں کو بھی ہدائت نصیب کرے آمین!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com