ماں تجھے سلام …………روہیل اکبر

اس سال 2016کو 12ربیع الاول اور دسمبرکی 12تاریخ اکٹھی تھی جب ماں جیسی عظیم ہستی ہمیں ہمیشہ کیلیئے چھوڑ کرچلی گئی جس نے کبھی ایک پل کے لیے بھی ہمیں اپنے آپ سے الگ نہیں کیاہر وقت دعاؤں کا سایہ کیے رکھا یہاں تک کہ خالق حقیقی کے پاس جاتے جاتے بھی ہم پر اپنی دعائیں نچھاور کرتی رہیں اس تاریخ تک دو غم ہم پر مسلط تھے کہ تیسرا غم ماں کی جدائی کا بھی ہمارے حصے میں آن پڑا اور اس غم کو بانٹنے والا بھی کوئی نہ تھا پہلا غم ہم بہن بھائیوں کو اس وقت ملا جب بڑا بھائی سہیل اکبر بمشکل 16سال کے لگ بھگ ہوگا میں اس وقت تیسری جماعت کا طالبعلم تھا ہم سب کی لاڈلی اور پیاری بہن شازیہ اور بھائی جاوید اکبر بھی بہت چھوٹے تھے کہ ہمارے ابو ہمیں اس دنیا میں تنہا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جاملے اور وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ جب تمام رشتے ناطے ختم ہوتے گئے تو اس وقت ہماری امی نے اپنی شفقت کا سایہ ہم پر ایسے تان دیا جیسے مرغی مشکل وقت میں اپنے بچوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے اور ہر خطرے سے اکیلے ٹکرا جاتی ہے بلکل ایسے ہی ہماری والدہ نے ہم بہن ،بھائیوں کو تحفظ دیا مشکل اور مصیبتوں سے بھر پور وقت کو ہم سے دوربھگائے رکھا بڑے بھائی نے پڑھائی کے ساتھ ساتھ والد صاحب کی چھوڑی ہوئی سیمنٹ کے پائپ بنانے والی فیکٹری کاکام سنبھالا اور کچھ والد صاحب کی پنشن بھی آتی تھی گذر بسربہتر ہونا شروع ہوگئی اور ہم بہن بھائی پڑھنے میں مصروف رہے والدکی طرف کے رشتے دار دور ہوتے ہوتے انجان بن گئے جبکہ والدہ کی طرف والے رشتہ دار خوب پیار کرتے مگر وہ دور اتنا تھے کہ سال بعد یا دو سال بعد ہی بہاولپور کا چکر لگتا اور اکثر سکول کی چھٹیوں میں جب اباسین ٹرین پر بیٹھ کر ڈیرہ نواب صاحب اسٹیشن پر اترتے تو ماں کے ساتھ جو تحفظ اور خوشی کا احساس ہوتا وہ ناقابل فراموش ہے آج بھی جب اس منظر کو یاد کرتا ہوں تو پوری فلم آنکھوں کے سامنے چلنا شروع ہوجاتی ہے اسٹیشن سے گاؤں36/DNBتک جانے کے لیے صرف ایک ہی بس چلا کرتی تھی جس کے ڈرائیور کا حلیہ آج تک مجھے یاد ہے سرخ داڑھی اور شلوارقمیض میں ملبوس ڈرائیور جب شام ڈھلے بس کو اسٹارٹ کرکے جرنیلی سڑک پر ڈالتا توگاؤں کے سٹاپ پر پہنچتے پہنچتے اکثر رات ہوجاتی تھی اس جرنیلی سڑک سے گاؤں تک کا سفر تقریبا ڈیڑھ یا دو کلومیٹر بنتا ہوگا مگر ہمارے انتظار میں امی جان کے ماموں زاد بھائی ارشاد اور اعجاز ہاتھوں میں ٹارچیں لیے کھڑے ہوتے تھے جو ہم سے بہت پیار کرتے تھے میری اعجاز سے بہت اچھی دوستی تھی اور ہمارے درمیان اکثر خط وکتابت بھی چلتی رہتی تھی اور اسی لیے انہیں ہمارے آنے کا دن بھی معلوم ہوتا تھا رات گئے جب ہم گھر پہنچتے تو امی کی ممانی جان جسے سب بی بی جان(اللہ انہیں صحت ،تندرستی اور لمبی عمر عطا فرمائے۔آمین) کہتے ہیں اور ہماری خالائیں بڑے پرتپاک انداز سے ہمارا استقبال کرتی گاؤں میں امی کے ساتھ گذرے دن سنہری اور یاد گار ہونے کے ساتھ ساتھ ناقابل فراموش بھی ہیں گرمیوں کی چھٹیوں میں جب ہم گاؤں پہنچتے تو اس وقت کپاس کی چنائی کا موسم بھی شروع ہوچکا ہوتا تھا بی بی جان کی گاؤں میں بہت زیادہ زرعی زمین ہے اور کپاس کی فصل بھی بھر پور ہوتی تھی سب گھر والوں کے ہمراہ امی مجھے بھی کپاس کی چنائی میں ساتھ لیکر جاتی تھیں صبح سے شام تک کپاس چنتے چنتے دپہر کو جب کسی درخت کی چھاؤں میں بیٹھ کر اچار اور لسی کے ساتھ روٹی کھاتے تو اسکا جو مزہ آتا تھاوہ شائد مجھے آج تک کسی فائیو سٹار ہوٹل میں بھی نہیں آیاکپاس کی چنائی کے بعد شام کو جب بی بی جان کپاس تقسیم کرتی تو باقی سب کو انکے حصے کے مطابق کپاس ملتی جبکہ ہمیں ہماری سب کپاس ویسے ہی مل جاتی جسے فروخت کرکے ہمیں اچھے خاصے پیسے مل جاتے تھے میری امی کی والدہ چونکہ بچپن میں ہی فوت ہوگئی تھی اور اسی گھرانے نے امی جان اور انکے اکلوتے بھائی یعنی میرے ماموں میاں نور احمد انجم کی پرورش کی تھی اس لیے اس گھر سے ہمیں بہت پیار ملا اور آج بھی جب یہاں آنا ہوتا ہے تو بہت سکون محسوس ہوتا ہے امی کے ماموں بھی اکیلے تھے وہ بھی جوانی میں اللہ کو پیارے ہوگئے اور انکے دونوں بیٹے اعجاز اور ارشاد بھی انہیں جوانی میں ہی داغ مفارقت دے گئے یہ دونوں اموات ایسی تھی کہ جس سے پوراخاندان ٹوٹ کررہ گیا اور پھر بڑے بھائی سہیل اکبر کی بھی جوانی میں موت کا ایسا واقعہ ہوا کہ جس نے امی کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کردیا امی جان نے کبھی کسی کو کوئی دکھ نہیں دیا کبھی کسی سے لڑائی نہیں کی اور کبھی کسی کا دل نہیں دکھایامگر اس کے باوجود ایک دکھ کے بعد دوسرا دکھ انہیں اندر ہی اندر سے گھائل کرتا رہا ہمارے درویش صفت نانا جان کا دنیا سے جانا بھی بہت بڑے صدمہ سے کم نہ تھا مگر جن مشکلات سے مردانہ وار امی جان نے مقابلہ کیا وہ ابو کی وفات کے بعد کے حالات تھے کیونکہ اس وقت ہم سب بہن بھائی بہت چھوٹے تھے اور ذمہ داری بہت بڑی ان پر آن پڑی تھی جسے انہوں نے مردانہ وار نبھایا ابو کی امی سے محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اپنے تینوں بیٹوں کا نام اپنے نام کی بجائے امی کے نام کے ساتھ رکھا امی جان کا نام اکبری بیگم تھا اور اسی نسبت سے انہوں نے ہم تینوں بھائیوں کے نام کے آخر میں اکبر لگا دیا جبکہ بہن شازیہ کا نام ابو نے اپنے نام کے سات یعنی شازیہ غفور رکھا ہمارے ابوغفور علی اس قدر حلیم طبع اور رحم دل تھے کہ جب وہ ساہیوال کے ایک قصبہ مرادکے کاٹھیہ کے سکول میں بطور ٹیچراپنی ذمہ داریاں سرانجام دے رہے تھے تو کوئی والد اپنے بچوں کو پیسے نہ ہونے کے باعث سکول سے ہٹانے کی کوشش کرتا تو ابواس بچے کے تعلیمی اخراجات خود برداشت کرتے ان میں سے بہت سے بچے آج ملک کے مشہورو معروف انسان ہیں اور انکے بچے اعلی عہدوں پر فائز ہیں اسکے بعد ابو کا تبادلہ ساہیوال میں ہوگیا اور کچھ عرصہ میں بھی انکے ہمراہ انکے سکول جاتا رہا ابو کو فارسی زبان پر بھی بڑا عبور تھا اور شاعری سے انہیں خاص لگاؤ تھا وہ اپنے طالبعلموں سے بچوں کی طرح پیارکرتے تھے اور انکے شاگر جو آج کامیاب زندگی گذار رہے ہیں جب ہم انکے سامنے جاتے ہیں تو وہ ہمیں اتنی عزت دیتے ہیں کہ جیسے ہم ہی انکے استاد رہے ہیں بس قدرت نے انہیں زیادہ مہلت نہیں دی اور انکی ذمہ داریاں بھی امی جان کے سپرد ہوگئی امی جان کبھی گھر سے باہر نہیں نکلیں تھی اور اپنے گھر کے علاوہ کسی دوسرے گھر کا راستہ معلوم نہ تھا مگر جب ذمہ داری امی جان کے کندھوں پر آن پڑی توپھر اس عورت نے ہمیں انگلی سے پکڑ کر دنیا میں چلنا سکھادیا۔(جاری ہے)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com