والد کا مقام اور عالمی دن۔۔۔! 

تحریر : رانا اعجاز حسین چوہان 
والد کی عظیم خدمات کے اعتراف میں دنیا کے اٹھاون سے زائد ممالک میں ہرسال جون کے تیسرے اتوار کو فادرز ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ بلاشبہ باپ دنیا کی وہ عظیم ترین ہستی ہے جو اپنے بچوں کی بہترین پرورش اور ان کی راحت کے لئے ہمہ وقت کوششوں، کاوشوں اور مشقتوں میں مصروف عمل رہ کر زندگی گزارتاہے ، اور ضرورت پڑنے پر جان تک کی قربانی سے دریغ نہیں کرتا۔ ہر باپ کا یہی خواب ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچے کو اعلیٰ سے اعلیٰ میعار زندگی فراہم کرے تاکہ وہ معاشرے میں باعزت زندگی بسر کرسکے اور معاشرتی ترقی میں بہتر طور پر اپنا کردار ادا کرسکے۔ بیسویں صدی کے اوائل میں ماؤں کے عالمی دن کی کامیابی کے بعد والد کی عظمت کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے اس دن کے منانے کا سلسلہ امریکہ سے شروع ہوا تاہم 1966ء میں اس دن کو عالمی سطح پر مقبولیت اس وقت ملنا شروع ہوئی جب امریکی صدر لنڈن جونسن نے جون کے تیسرے اتوار کو باضابطہ طور پر فارد ڈے قرار دیا، جبکہ 1972ء سے اس دن امریکی قومی تعطیل قرار دیا گیا۔ اگرچہ اس دن کے موقع پر والد کے ساتھ الفت ومحبت اور ان کی خدمت کے جذبے کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے لیکن جتنے جوش و خروش سے دنیا بھر میں مدرز ڈے منایا جاتا ہے،اور جس شدت سے بچے ماں کے دن کا انتظار کرتے ہیں ویسا جوش و خروش اور اس طرح کے تحائف باپ کے حصے میں کم ہی آتے ہیں۔پیارے مذہب اسلام میں باپ کوابڑا درجہ حاصل ہے جبکہ احادیث مبارکہ میں باپ کی ناراضگی کو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور باپ کی خوشنودگی کو ربّ تعالیٰ کی خوشنودگی قراردیا گیا ہے۔ قرآن پاک کے احکامات اور نبی کریم صلی اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمودات کی روشنی میں والدین ( یعنی دونوں) کی خدمت واطاعت کا حکم دیاہے۔ اگر ماں کی طرح باپ کی عظمت کا پاس رکھتے ہوئے اس کی اطاعت ،فرمان برداری ،خدمت اورتعظیم کرکے رضاحاصل کی جائے تو اللہ پاک کی طرف سے ہمیں دین ودنیا دونوں کی کامیابیاں ، سعادتیں اورجنت کی بیشمار نعمتیں نصیب ہوسکتی ہیں۔ ایک بار ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ میرے والد نے میرا سب مال لے لیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنے والد کو بلا کر لاؤ۔ اسی وقت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب اس لڑکے کا والد آجائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پوچھیں کہ وہ کلمات کیا ہیں جو اس نے دل میں کہے ہیں، اور اس کے کانوں نے بھی ان کو نہیں سنا۔‘‘ جب وہ نوجوان اپنے والد کو لے کر آیا۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آپ کا بیٹا آپ کی شکایت کرتا ہے کیا آپ چاہتے ہیں کہ اس کا مال چھین لیں ؟ والد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ اسی سے پوچھ لیں کہ میں اس کی پھوپھی ، خالہ یا اپنے نفس کے سوا کہیں خرچ کرتا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پس حقیقت معلوم ہو گئی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے والد سے دریافت فرمایا وہ کلمات کیا ہیں جو تم نے دل میں کہے اور تمہارے کانوں نے بھی ان کو نہیں سنا ؟اس شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو بات کانوں نے بھی نہیں سنی اس کی اطلاع آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو گئی ۔ پھر اس نے کہا کہ میں نے چند اشعار دل میں پڑھے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ اشعار ہمیں بھی بتاؤ۔ اس صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میں نے دل میں یہ کہا تھا’’ میں نے تجھے بچپن میں غذاء دی اور جوان ہونے کے بعد تمہاری ہر ذمہ داری اٹھائی تمہارا سب کچھ میری کمائی سے تھا۔ جب کسی رات تمہیں کوئی بیماری پیش آگئی تو میں نے رات نہ گزاری مگر سخت بیداری اور بیقراری کے عالم میں۔ مگر ایسے جیسے کہ بیماری تمہیں نہیں مجھے لگی ہوئی ہے، جس کی وجہ سے تمام شب روتے ہوئے گزار دیتا۔ میرادل تمہاری ہلاکت سے ڈرتا رہا، اس کے باوجود کہ میں جانتا تھا کہ موت کا ایک دن مقرر ہے۔ جب تو اس عمر کو پہنچ گیا تو پھر تم نے میرا بدلہ سخت روئی اور سخت گوئی بنالیا، گویا کہ تم ہی مجھ پر احسان و انعام کر رہے ہو۔ اگر تم سے میرا حق ادا نہیں ہو سکتا تو کم از کم اتنا ہی کر لیتے جیسا ایک شریف پڑوسی کیا کرتا ہے۔ تو نے مجھے کم از کم پڑوسی کا حق ہی دیا ہوتا۔ میرے ہی مال میں مجھ سے بخل سے کام نہ لیا ہوتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ سنا تو بیٹے کو فرمایا ’’انت و مالک لا بیک ‘‘ کہ تو اور تیرا مال سب تیرے باپ کا ہے۔(معارف القرآن بحوالہ تفسیر قرطبی) 
قارئین کرام دیکھئے کہ اولاد کے ستائے باپ کے دل سے نکلے الفاظ کس طرح عرش الٰہی تک پہنچے، اور رحمت الٰہی جوش میں آئی ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ والدین دنیا کی سب سے بڑی نعمت ہیں، اگر کسی کویہ نعمت حاصل ہے اوروہ ان کی خدمت واطاعت کررہاہے تو وہ بڑاسعادت مند اوراللہ کا محبوب بندہ ہے۔ قرآن پاک کے احکامات اور فرامین رسول صلی اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں جا بجا والدین کی خدمت واطاعت کا حکم دیاگیا ہے۔ اولادکی بہترین تعلیم وتربیت کی غرض سے والد کا کردار ذرا سخت ہوتا ہے،جبکہ اس کے برعکس ماں کی حد سے زیادہ نرمی اور لاڈ پیارسے اولاد نڈراور بے باک ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کی تعلیم ،تربیت اورکردار پربرا اثر پڑتا ہے،جب کہ والد کی سختی،نگہداشت اورآنکھوں کی تیزی سے اولاد کو من مانیاں کرنے کا موقع نہیں ملتا، شایدیہی وجہ ہے کہ اولاد باپ سے زیادہ ماں کے قریب ہوتی ہے، لیکن اولادیہ نہیں جانتی کہ اس کے والد کو گھر چلانے اور تعلیم وتربیت کا مناسب اہتمام کرنے کی لیے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ وہ باپ ہی ہوتا ہے جو اپنے اہل وعیال اور اولادکو پالنے کے لیے خود بھوکا رہ کریا روکھی سوکھی کھاکرگزارہ کرتا ہے، لیکن پوری کوشش کرتا ہے کہ اس کے بچوں کو اچھاکھانا پیناتعلیم اور تربیت میسرہو۔ اولاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کے سوا والدین کے ہر حکم کی تعمیل کریں، ان کی رائے کو ترجیح دیں ، اور خاص طور پر جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو پھر ان کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے ان سے محبت و احترام سے پیش آئیں۔ اور اپنی مصروفیات میں سے مناسب و قت ان کے لیے خاص کردیں، ان کی دل وجان سے خدمت واطاعت کریں کہ اسی میں دین ودنیا کی کامیابی،سعادت اور فلاح ہے۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com