ماں تیرے بناء 

کو مل سعید 
ما ں کے لئے ایک دن مخصوص کر کے اپنی محبت کا اظہار کر نا اور پھر اس ہستی کو اگلے مدر ڈے تک بھو ل جا نا مغر ب کی روایت ہے ہم پا کستا نی مشر قی لو گ جن کا سر ما یہ حیا ت ان کی ماں ہی ہے ۔اس ہستی پہ کیا لکھوں اور کہا ں سے وہ الفا ظ لا ؤں جو ماں کی عظمت کو بیان کر سکیں ۔اللہ پا ک نے اس کا ئنا ت میں ہر انسان کو رشتوں کی مضبو ط ڈور سے با ندھ رکھا ہے یہی ر شتے انسا نی ز ند گی کی خو بصورتی اور پہچان ہیں ۔ماں ،با پ ،بہن ،بھا ئی ،بیوی ،بچے ،شو ہر اور دیگر رشتے اپنی اپنی جگہ اہمیت کے حا مل ہیں مگر اس کا ئنا ت میں ہر رشتہ وقت کے سا تھ سا تھ اپنے احساسات و جذ با ت ،محبت و خلو ص کو حا لا ت کے مطا بق بدل لیتا ہے ان رشتوں میں محبت کی جگہ نفرت ،پیا ر و خلوص کی جگہ خو د غر ضی آ جا تی ہے، تمام ر شتوں میں وقت اور حا لا ت کے سا تھ کھوٹ و منافقت شا مل ہو جا تی ہے مگر ماں کا ر شتہ وہ واحد رشتہ ہے جو ہر کھوٹ ،منافقت اور حا لا ت و واقعات سے مبرا ہو تا ہے ۔چا ہے انسان جتنا بھی بڑا ہو جا ئے بو ڑ ھا ہو جا ئے مگر ماں کیلئے وہ ہمیشہ بچہ ہی رہتا ہے ۔ماں ہر وقت اپنے بچوں کو دعا ؤں کے سا ئے تلے ر کھتی ہے ۔ماں خود تو حا لا ت کے رُو میں بہہ جا تی ہے مگر اس کے احساسا ت و جذ با ت ،محبت و پیار و خلوص میں ذرا بھر کمی واقع نہیں ہو تی ۔"ما ں" ہی وہ عظیم ر شتہ ہے جو سا ری ز ند گی اولا د کی ہر تکلیف ہر د کھ کو وہ اپنے سینے سے لگا کر وہ خو د تو جل سکتی ہے مگر اولا د کو محفو ظ ر کھتی ہے ۔اللہ پا ک نے تمام ر شتوں میں سب سے مقد م ر شتہ ماں کا ر کھا ہے ۔اس سے بڑ ھ کر عظیم ر تبہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ جنت کو ماں کے قد موں تلے بچھا دیا اور ماں کی بدد عا سے بچنے کا حکم دیا کیو نکہ اگر ماں کی د عا اولا د کے حق میں ر د نہیں ہو تی تو اسی طر ح د کھی ماں کی بدد عا عر ش کو ہلا دیتی ہے ۔ماں کی خد مت کے بد لے میں جنت کی ضما نت دی گئی ۔حضرت اویس قرنی ؒ ہما رے پیارے نبی پاکﷺ کے دور میں موجود تھے اور ان کی خواہش تھی کہ پیارے نبی کی زیارت کر کے صحابی ہو نے کا شر ف حاصل کر یں ۔انہوں نے پیا رے نبی پا ک ﷺ کو ایک نامہ لکھا کہ وہ آپ ﷺ کی زیا رت کر نا چا ہتے ہیں لیکن میر ی والدہ بہت ضیعف اور کمزور ہیں اور ان کی خد مت میر ے علا وہ کر نے والا کو ئی نہیں ۔آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فر ما یا کہ" اویس قر نی !میر ی زیا رت سے زیادہ ضروری والدہ کی خد مت کر نا ہے ۔تم اپنی والدہ کی خد مت کو تر جیح دو ۔"پھر آپﷺ نے حضرت عمر فاروقؓ کو بلایا اور ارشاد فر ما یا " اے عمر !جب دعا کروانی ہو تو اویس قر نی سے کروانا کیو نکہ اس کے سا تھ ماں کی دعا ہے اوراس کی خد مت کے عوض اللہ پا ک کبھی ان کی دعا کو رد نہیں کریں گے " ماں کی خد مت کر نے کا اتنا بڑ ا در جہ ہے اور لطف و عنا یت ہے جو ہمہ وقت ہمارے ساتھ رہتی ہیں ۔ ماں وہ ہستی ہے کہ جس کا لمس پا کر ساری کی سا ری تھکا وٹ ختم ہو جا تی ہے ۔مگر آہ میر ی ماں !مجھے یوں چھوڑ کے چلی جا ئیں گئیں میرے و ہم و گما ن میں بھی نہ تھا ۔میری ماں جنہوں نے ہمیشہ صبر و تحمل کا درس دیا اور اپنی اولا د کو کسی بھی تفر یق میں نہیں پڑ نے دیا پھر کس طرح مو ت نے اپنی آغو ش میں لے لیا کہ پتہ بھی نہ چل سکا ۔انہوں نے ہمیشہ مجھے ایک ہی با ت کہی کہ اللہ جس حال میں ر کھے اس کا شکر ادا کر نا چا ہیے۔اور حا لا ت کا مقا بلہ اللہ پا ک کی مدد کے سا تھ ڈٹ کر کر نا چا ہیے۔کتنی عظیم ہستی ہے ماں کی جو اپنی اولا د کی ہر با ت کا خیال ر کھتیں ہیں ۔وہ ہر حال میں کہا کر تیں تھیں کہ اللہ کا شکر ہے ۔یہ ان پہ خاص فضل ر بی تھا کہ معمو لی سی معمو لی بیما ری اور زیادہ سے زیادہ تکلیف اور بیماری کو اللہ کی آزما ئش قرار دیتی تھیں۔ وہ معروف عالم با عمل خطا بت خو ش بیاں مو لا نا فضل احمد مر حوم کی لاڈلی اور انتہا ئی فرمابردار بہو اور خطا بت بے بدل سحر انگیز شخصیت کے ما لک اور دنیا ئے دین میں عا لمی شہر ت کے حا مل قاری محمد سعید عثما نی مر حو م کی بیوہ تھیں انہوں نے اپنے خا ندا نی دینی پیشے کی خد مت کو صدق دل سے اپنا یا اور زند گی اسی خد مت کیلئے وقف کر دی ۔میر ی ماں اگر میں الفا ظ میں آ پ کو خراج تحسین پیش کر سکتی تو کئی کتا بیں بھی کم ہیں مگر میرے پاس وہ الفا ظ نہیں کہ جن میں آ پ کی محبت اور بے لو ث چا ہت اور جا ن نثار نظروں کی خو بصورتی کا احا طہ کر سکوں ،میرے پا س آ پ کی د عاؤ ں اور چا ہتو ں کا انمو ل خزانہ ہے جو سا ری ز ند گی میرے سا تھ رہے گا آ پ کے بعد میں ز ند گی میں بے سکوں اور بے اماں ہوں،خو شیاں آ پکی د عا ؤں سے میر ے سا منے ڈ ھیر ہیں مگر آ پ کا نہ ہو نا میرے لئے ایک ا ذ یت نا ک احساس ہے جو میری سا ری خو شیوں پہ حا وی ہے ۔ چھوٹے بچوں کی طرح میرا بھی دل مچل مچل جا تا ہے کہ میرا تھکن سے چور و جود آپکی گود میں ہو مگر یہ حسرت مچل مچل کے سسکتی سسکتی اندر ہی اندر دم توڑ جا تی ہے پھر میں کیسے خود کو سنبھالتی ہوں یہ داستان تو میرا ر ب جا نے اور میرا دل جا نے ، میرے تصور میں آپ دور ہو کر بھی ہر پل ساتھ ہیں اور آ پکی شفقت بھر ی نگا ہیں مجھے فلک کی اوٹ سے دیکھتی رہیں گی اور دعائیں ہمیں غلط راستے سے دور رہنے کی خا مو ش تلقین کر تیں رہیں گی ۔اللہ پا ک آ پکی لحد کو جنت کے باغوں میں سے باغ بنا دے اور تاحد نگاہ جنت کی کشادگی نصیب فرما دے ۔آمین !

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com