بچوں کی شادی میں دیری کا بڑھتا ہوا ؛ٹرینڈ ایک لمحہ فکریہ

بچوں کی شادی میں دیری کا بڑھتا ہوا ؛ٹرینڈ ایک لمحہ فکریہ۔۔۔ ازقلم:محمد وقار اسلم
آج سے پندرہ سال پہلے معاشرے کا جو رجحان ( Vogue ) تھا اس کے مطابق جس لڑکی کی شادی پچیس سال کی عمر سے پہلے کردی جاتی تو ایسی شادی کو بروقت گردانا جاتا۔پچیس کی عمر کا ہندسہ عبور کرنے کا یہ مطلب لیا جاتا کہ لڑکی کے رشتہ میں دیر ہوگئی اس سے پہلے کا معلوم نہیں لیکن ہو سکتا ہے کہ دیری کا یہ پیمانہ تین چار سال پہلے تصور کیا جاتا ہو پھر 7,8 سال پہلے یہ صورتحال ہوئی کہ تیس سال کی عمر سے پہلے پہلے لڑکی کی شادی بروقت قرار دی جانے لگی یعنی محض کچھ عرصے میں پانچ سالوں کا فرق آگیا۔اب بھی ایسے معاملات ہیں کہ اکثر گھروں میں لڑکیوں کی عمریں تیس سے چالیس سال کے درمیان ہو چکی ہیں لیکن رشتہ ندارد۔یہ رشتہ میں دیری کا رُجحان ہمارے معاشرے میں ایسی خاموش دراڑیں ڈال رہا ہے جو معاشرتی ڈھانچے کے زمین بوس ہونے کا پیش خیمہ ہیں لیکن اس کا عملی ادراک معاشرے کے چند لوگوں کو بھی نہیں۔ آئیں! اس دیری کی وجوہات اور محرکات کا تعین کرتے ہیں پہلی وجہ لڑکوں کا تعلیم کے میدان میں پیچھے رہ جانا اور لڑکیوں کا اس میدان میں آگے نکل جانا پچھلے کئی سالوں کے بورڈ امتحانا ت کے نتائج اس بات کے شاہد ہیں اس کی وجہ سے تعلیم کے لحاظ سے ہم پٰلہ رشتہ ملنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ شہروں میں کچھ سالوں سے لڑکیوں میں بڑھتے ہوئے پی ایچ ڈی کے ٹرینڈ نے اس کو اور مشکل بنا دیا ہے۔ دوسری وجہ اچھی تعلیم حاصل ہونے کی وجہ سے لڑکیوں کو روزگار کے مواقع نسبتا آسانی سے مل جاتے ہیں ۔ اس کے دو اثرات سامنے آئے ہیں،ایک والدین کا ان لڑکیوں پر مالی انحصار کرنا شروع ہوجانا،نوکریوں کے لحاظ سے ہم پلہ رشتہ نہ ملنا،کچھ والدین کا اس معاملے میں بالکل ہِل جُل نہ کرنالڑکیوں کی عمریں اٹھائیس اٹھائیس سال ہو جاتی ہیں لیکن انہیں کم عمر ہی تصور کیا جاتا ہے ایک زمانہ تھا کہ اٹھارہ بیس کی عمر میں مائیں رشتوں کی تلاش میں سرگرداں ہو جایا کرتی تھیں۔ جس لڑکی کی عمر تیس سال سے اوپر ہوجاتی ہے اس کے لئے عمر کے لحاظ سے رشتے مشکل ہوجاتے ہیں کیونکہ اکثر و بیشتر لڑکے کم عمر لڑکی کی تلاش میں ہوتے ہیں۔ لڑکے والوں کے ازحد نخرے ہیں ،اول تو کوئی لڑکی لڑکے کی ماں ،بہن کو لُبھاتی نہیں فقط ان کی میزبانی سے لطف اندوز ہونا ہی شاید مقصد ہوتا ہے۔ اگر کوئی لڑکی پسند آبھی جائے تو پھر فرمائشوں اور رسوم و رواج کے نام پر لڑکی والوں کا مکمل استحصال کیا جاتا ہے۔میرے ایک دوست ہیں جن کے گھر والوں نے کوئی 82 جگہ ان کا رشتہ دیکھا پھر ایک جگہ ہاں کی،کچھ عرصہ بعد وہاں سے رشتہ توڑنے لگے تو ان صاحب نے انکار کردیا کہ میں مزید تماشا نہیں دیکھ سکتا۔ لڑکی کے والدین بھی لڑکے میں وہ تمام کامیابیاں دیکھنا چاہتے ہیں جوجو لگ بھگ چالیس پچاس سال کی عمر میں حاصل ہوتی ہیں اگر کوئی بہت جلدی کر لے تو یہ ایک ( Exceptional Case ) ہے۔مکان اپنا ہو ،گاڑی ہو، تنخواہ کم سے کم اتنی ہو وغیرہ وغیرہ۔ لڑکی والے اس لئے بھی انکار کر دیتے ہیں کہ لڑکے کا گھر اپنا کیوں نہیں بھلا ایسے عمومی رویوں کا کیا کیا جائے؟ شوہر اور بیوی کو عمر بھر ساتھ گزارنی ہوتی ہے نشیب و فراز بھی دیکھنے پڑتے ہیں منفی ٹریننگ اس کی گھر سے کی گئی ہوگی تو پھر گھریلو ناچاقیاں بڑھیں گی ۔ ہر ماں اپنی بیٹی کا رشتہ خاندان میں کرنے پر بخوبی راضی ہوتی ہے لیکن جب اپنے بیٹے کا معاملہ آتا ہے تو خاندان کی ساری لڑکیوں پر ناک بھون چڑھایا جاتا ہے اور بڑی رعو نت سے خاندان سے باہر کی لڑکی گھر لائی جاتی ہے۔ہمارا معاشرتی نظام درہم برہم ہورہا ہے اور ہماری نوجوان نسل بروقت شادی نہ ہونے کی وجہ سے مختلف ذرائع سے پھیلائی گئی فحاشی ،دشنام طرازاور لغویات سے آشنا ہوتی جارہی رہے معاشرت پر گہرا اثر پڑ رہا ہے رویے ابتذال پذیر ہو رہے ہیں عامیانہ طرز تقلم اور چڑچڑا پن عام ہو رہا ہے اولاد والدین سے تضحیک آمیز گفتگو کرنے لگ گئی ہے بے حیائی کا آسانی سے شکار ہورہی ہے اور جو کوئی اس انحطاط سے محفوظ رہا ہے اپنے ساتھ نفسیاتی جنگ لڑنے میں مگن ہے۔مغرب تو اپنے آپ کو اس سب سے برباد کر چکا ہے اور ان کی آبادی اب ریورس گیئر لگائے ہوئے ہے۔لیکن ہم جانتے بوجھتے خود اس گڑھے میں گِر رہے ہیں اور وہ بھی ہنستے مسکراتے ہم سب اس اجتماعی خر ابی اور زوال کے ذمہ دار ہیں صد حزن ! کشتی ڈوب رہی ہے اور کشتی کے ملاح اور مسافر سب ہی بے نیاز ۔حیران ہوں کہ دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو ! اگر ہم نے بچوں کی بلوغت کے فورا بعد شادی کو رواج نہ دیا اگر ہم نے نکاح کو کاروبار کی بجائے فرض کا درجہ نہ دیا ۔اگر ہم نے گومگو کی دیوار کو نہ توڑا تو بیٹیوں کو دوستی کے پیغام آئیں گے تو بیٹے شادی کی بجائے افئیرز اور بیوی کی بجائے گرل فرینڈز رکھیں گے لڑکیوں کی زندگیاں تباہ کرتے رہیں گے تمام تقدس اس ہی طرح ہوس کی بھینٹ چڑھتا رہے گا ہمیں معدوم کرنے کی روِش کو ختم کرنا ہوگا اپنے بچوں کو ان کی پسند کا شریکِ حیات چُننے کا حق دینا ہوگا ان کی شادیاں کرکے ان پر شفقت کا ہاتھ اوردعائیں دینا ہونگی اپنے چنگل سے باہر نکل دینے کی اجازت دینا ہوگی۔یہ ایونٹ اور تہوار عیاشی اور بدقماشی کی علامت بن کر رہ جائیں گے شریعت پر عمل کو اس ہی طرف نفسانی حواہشات کی نذر کیا جاتا رہے ۔واللہ یہ تبرا یہ نحوست ہر گھر تک پہنچے گی اگر ہم اس ہی طرح قدرت کے اٹل قانون کا مذاق اڑاتے رہے اسے اناؤں کے گھاٹ اتارتے رہے اور ایسے ہی اس شفاف سچ سے منہ موڑتے رہے ہمیں اپنے رویوں کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے اس سے پہلے کے بہت دیر ہوجائے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com