کیا آپ جانتے ہیں وہ سات چیزیں جو سکول میں ٹیچرز نہیں سکھاتے

یقینا نہیں جانتے ہونگے، لیجئے جانیئے اور اپنی رائے سے آگاہ کریں کہ اِن میں کتنی صداقت ہے اور آپ کتنا متفق ہیں
۱:کرایہ
شاید بظاہری طور پر کرایے سے متعلقہ معاملات آسان بہت آسان لگ رہے ہوں، مگر ایسا ہوتا نہیں جب پہلی بار کرایہ دینے یا لینے کی باری آتی ہے تو پریشانی میں کچھ نہیں سوجھتا کہ کس سے مدد لی جائے معاملات کو کس طرح نمٹایا جائے ؟بے یارومددگار اِدھر اُدھر سر پٹختے رہتے ہیں۔پھر ہوتا یوں ہے کہ کسی تجربہ کار کار کرایہ دار یا مالک مکان سے رابطہ کر کے رہنمائی لی جاتی ہے ۔ احساس ہوتا ہے کہ کاش ہمارے سکول یا کالج سلیبس میں کوئی باب ایسا بھی ہوتا جس میں اِیسے آنے والے حالات کے حوالے سے بنیادی پہلو سے ہمیں آگاہ کر دیا جاتا
۲:بل
جی ہاں!بل۔۔۔گیس بل، بجلی بل، پانی کا بل، ٹیکس کا بل، یہ بل وہ بل فلاں بل ۔۔یہ بل ہی تو ہیں جو آپ کی تنخواہ کا بڑا حصہ ہڑپ کر جاتے ہیں ، اِن کو بیلنس کیسے رکھنا ہے؟اِن سے بچت کیسے کرنی ہے۔؟انہیں اداکدھر کرنا ہے؟ اور کیسے کرنا ہے؟ کتنا وقت درکار ہے؟ ادائیگی کے لئے اوقات کیا ہیں ؟ادائیگی کی تاخیر میں کن کن مشکلات کا سامنا پڑسکتا ہے؟ اور بے شمار سوالات جن کے جوابات ہم نے اپنی کتابوں میں نہیں پڑھے۔لیکن تلخ تجربات نے سیکھا ہی دیا
۳:پکوائی
شوہر کا دل جیتنا ہو اور سسرال میں اپنی جگہ بنانے ہو کچھ ایسا کر دیکھنا ہو کہ سبھی آپ کے گن گانے لگیں تو اچھی بیوی اچھی بہو کے لئے ضروری ہے کہ وہ اچھی پکوائی میں مہارت رکھتی ہو۔لذیر ،چٹخارے دار، رنگا رنگ،ذائقے دار کھانا پکانا اُس کے لئے کوئی مسئلہ ہی نہ ہو۔مگر افسوس اِس حوالے سے ایک لڑکی کسی سکول میں جو پڑھتی ہے وہ ناکافی ہے ۔تو ایسے میں ایک ماں ہی ہے جو اپنی بیٹی کو اپنی ماں سے سیکھے ہوئے اچھے پکوائی کے گُر بتا سکتی ہے ۔چلیئے ایک بیٹی نے تو سیکھ لیا مگر آپ کو ہی پردیس جانا پڑ گیا تو پردیس میں کیا کریں گے؟
۴:فوڈ کی خریداری
یہ بھی ایک کڑا امتحان ہے اور پہلی بار فوڈ کی خریداری سے تو دن میں تارے نظر آ جاتے ہیں ، بیسن ایک چھٹانک نہیں لیا جا سکتا اور نہ ہلدی یا دھنیا پاؤڈر ایک کلو خریدا جاسکتا ہے۔اور سب مطلوبہ اشیاء کی قیمتوں کے تناسب کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی ماہانہ آمدنی کے مطابق مہینہ بھر کا سودا سرف کیسے خریدا جائے اور کیا کیا خریدا جائے کہ گھر کا دال دلیہ چلتا رہے ۔ایس خریداری بھی ایک خریداری ہی سکھا سکتی ہے سکول نہیں
۵:پیسے کی قدر
چھوٹے تھے جو جب چاہا اپنی ماں سے پیسے لیے فلم دیکھ لی، پیسے لیے دوستوں کے ساتھ دعوتیں اُڑا لیں، مطالبہ رکھا سائیکل خرید لی،تھوڑے سے جوانی نے پر نکالے تو موٹرسائیکل پر انگلی رکھ دی۔لباس میں جو چاہا پہن لیا بہت خوشگورا ہستے کھیلتے زندگی گزار لی۔ آج اپنے بچے پیسے مانگتے ہیں تواحساس ہوتا ہے کہ کاش سکول میں ہمیں پیسے کی قدربھی سکھائی ہوتی تو ہم نے بھی اپنے والدین کو تنگ نہ کیا ہوتا ۔وقت نے سکھا دیا مگر بہت لیٹ ۔۔اور اب ہمارے بچے بھی سیکھ جائیں گے مگر تب تک بہت دیر ہوچکی ہوگی
۶:کام کاج والی زندگی
آہ۔۔مجھے نہیں یاد پڑتا کہ سکول میں کسی استاد یا استانی نے مجھے اِس حوالے سے کچھ سکھایا ہونہ کبھی ہماری ذہن سازی کی ہو یہی سوچتے رہے کہ زندگی ایسے ہی حسین اورآرام دہ گزرتی رہے گی ۔فی الوقت بھی اِس سرزمین پے کوئی سکول ایسا نہیں جو حقیقی کام اور حقیقی زندگی کے بارے مین ہمیں تیار کررہے ہوں
۷:نقصان
میرا آخری نقطہ تھوڑا کڑوا بھی اور تھوڑاغمگین بھی جب آپ کے سارا جوش و جذبے خاک ہو جاتے ہیں ۔منہ کے بل گرتے ہیں اور اُٹھ کھڑے ہونے کی امیدنہیں ہوتی۔کبھی ایسا موڑ بھی آجاتا ہے کہ کسی ایسے گرداب میں پھس جاتے ہیں جہاں سے ساحل نہ نظر آتا ہے نہ زندگی کی کوئی امید باقی رہ جاتی ہے ۔۔جبکہ ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا جیسا سوچ لیا جاتا ہے ۔ کبھی کبھی آپ گر کر ایسے سنبھل جاتے ہیں کہ پہلے سے زیادہ مستحکم ہو جاتے ہیں ایسے قدم جماتے ہیں کہ دوسرے کیلئے بھی مدد کو ہاتھ بڑھا دیتے ہیں ۔۔۔۔مگر سوال یہ ہے کہ مشکلات میں اپنے آپ کو سنبھالنا کیسے ہے ؟ اِس حوالے سے کوئی تعلیم ہمیں سکول میں نہیں دی جاتی ۔یہ بھی ہم نے خود ہی سیکھنا ہوتا ہے تلخ واقعات کو سینے لگا کر

تحریر: حسیب اعجاز عاشر
بشکریہ: روزنامہ آفتاب

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com