آج انعام کبیر (گوجرانوالا،پاکستان) کے ساتھ

Inaam Kabeerانعام کبیرؔ 
جناب انعا کبیر کا اصل نام ’’انعام الرحمن‘‘ ہے جبکہ ادبی حلقوں میںآپ کی پہچان انعام کبیر ہے آپ ۲۲ جون ۶۹۹۱کو نارنگ منڈی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم (ثناء اللہ اولکھ) پولیس میں ملازم ہیں۔ نارنگ منڈی میں چوتھی کلاس تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد والد کی ملازمت اور بہن بھائیوں کی تعلیم کے سلسلہ میں۷۰۰۲ کو ضلع گوجرانوالہ کے شہر کامونکی میں سکونت پذیر ہوئے اور یہاں تعلیمی سفر جاری رکھا اس وقت اسلامیہ کالج گوجرانوالہ میں 3rd year کے طالب علم ہیں ۔ آپ کے خاندان میں پڑدادا جان پنجابی کے شاعر تھے۔ آپ اردو، پنجابی دونوں زبانوں میں شعر کہتے ہیں۸۲ دسمبر ۴۱۰۲ کو پہلی قومی پنجابی کانفرنس میں ادبی ایوارڈ سے نوازا کیا۔

 

غزل نمبر 1 
آئنہ مجھ کو عجب طور سزا دیتا ہے
میری نظروں سے مجھے روز گرا دیتا ہے
مجھ سے اس شخص کی وقعت نہیں پوچھا کیجے
یہ وہ پنکھا ہے جو گرمی میں ہوا دیتا ہے
میں بھی خوش ہوتا ہوں جب ہاتھ پکڑ کر میرا
کوئی درویش ترا نام سنا دیتا ہے
زندگی قرض ہے مٹی سے لیا تھا جس کو
کوئی مرتا ہے تو یہ قرض چُکا دیتا ہے
میں نے کچھ وقت گزارا تھا کنارے جس کے
اب وہ دریا مجھے ہر روز صدا دیتا ہے
نازکی دیکھ مرے یار کے ہاتھوں کی کبیرؔ 
خار کو چُھو کے اسے پھول بنا دیتا ہے

غزل نمبر 2
رحمتیں اپنی اُتارے ہی چلا جاتا ہے
ڈوبتا ہوں تو اُبھارے ہی چلا جاتا ہے
مجھ کو لگتا ہے وہ عقبیٰ میں پریشاں ہوں گے
جن کی دنیا تو سنوارے ہی چلا جاتا ہے
یہ جو زنجیر ہے آگے نہیں بڑھنے دیتی
کوئی پیچھے سے پکارے ہی چلا جاتا ہے
کھیل میں جیت کے معیار کو بدلا اس نے
جو بڑے شوق سے ہارے ہی چلا جاتا ہے
اس کے دکھ درد کا اندازہ نہیں ہو سکتا
وہ جو دنیا سے کنوارے ہی چلا جاتا ہے
کچھ نئی بات اسے کہنی ہے لوگوں سے کبیرؔ 
مجھ پہ جو شعر اُتارے ہی چلا جاتا ہے

غزل نمبر 3
گزشتہ روز کا اخبار تو نہیں ہوں میں
تری حیات میں بے کارتو نہیں ہوں میں
اذیتیں مجھے دیتے ہیں کیوں جہاں والے
کسی کی راہ کی دیوارتو نہیں ہوں میں
وہ مسکرانے کو کہتے ہیں نوکِ نیزہ پر
خیال کیجئے، فنکار تو نہیں ہوں میں
مجھے وہ دیتے ہیں خیرات اپنی یادوں کی
کوئی فقیر یا حق دار تو نہیں ہوں میں
تری کہانی میں کیوں ہر جگہ ہے ذکر مرا
کہ اس کا مرکزی کردار تو نہیں ہوں میں
دُکھوں کے کھیت میں اُگتی ہے میری فصلِ غم
مگر کبیرؔ زمیندار تو نہیں ہوں میں

غزل نمبر 4
زندگی ہم نے گزاری ہے بیابانوں میں
ذکر اپنا بھی ملے گا کئی افسانوں میں
ایسے حالات میں پھر کیسا عدو سے شکوہ 
لوگ محفوظ نہیں اپنے نگہبانوں میں
تیرے کوچے سے تری یاد کا جھونکا آکر
دے گیا ہجر کاپیغام مرے کانوں میں
رات پلکوں کی منڈیروں پہ کئی سپنے تھے
ہم مگر جا نہ سکے نیند کے ایوانوں میں
اشک بہنے نہیں دیتا جو کبھی میرے کبیرؔ 
کوئی تو اپنا ہے اس دل کے نہاں خانوں میں

غزل نمبر 5
تمہارے پیار کی پہلی اُڑان تھے ہم لوگ
پھر اس کے بعد تو اک خاک دان تھے ہم لوگ
ہماری یاد کی اب راکھ اُڑتی پھرتی ہے
وہ جس نگر میں کبھی آسمان تھے ہم لوگ
پھٹی پرانی سی تصویر بن چکے ہیں ہم
کبھی کسی کے لئے اس کی جان تھے ہم لوگ
ہمیں تو بیچ کے رستے کی جستجو تھی مگر
کہیں یقین کہیں پر گمان تھے ہم لوگ
برنگِ ناوکِ تشنہ جو گھورتے ہیں ہمیں
انہی کے کاندھے پہ ٹوٹی کمان تھے ہم لوگ
اب ایک حسرتِ ناکام ہو گئی ہستی 
کبھی کسی کے لئے جسم و جان تھے ہم لوگ
ہم ان کے شہر میں اب در بدر ہوئے ہیں کبیرؔ 
وہ جب کے واسطے سارا جہان تھے ہم لوگ

غزل نمبر 6
ہم اُجالے کو ترستے ہی رہے پردے میں
جانے کتنے ہی دیے رات جلے پردے میں
وقتِ رخصت سبھی ہونٹوں سے رواں تھے اسکے
میں نے جتنے بھی تھے اشعار کہے پردے میں
پہلے اک عام سے روداد سناؤں گا اسے
بات پھر اصل بتاؤں گا اسے پردے میں
کچھ مری آنکھ بھی دھوکے میں رہی جانِ جہاں
اور کچھ آپ بھی اک عمر رہے پردے میں
ڈائری ، کارڈ ، کتابوں کے علاوہ مجھ کو
اس نے کچھ پھول بھی تحفے میں دیے پردے میں
یوں سرِ عام نہیں مسئلے حل ہوتے کبیرؔ 
وہ مرے ساتھ کبھی بات کرے پردے میں

غزل نمبر 7
بدل گیا ہے جو یہ تکیہ و پلنگ کا رنگ
چڑھا ہوا ہے مرے آنسوؤں کے رنگ کا رنگ
تمام عمر اسی شخص کی تلاش رہی
جو آ کے میرے بدن پر چڑھائے ڈھنگ کا رنگ
میں کیسے کہہ دوں مجھے زخم دشمنوں سے لگے
ہے میرے یار کے ہاتھوں میں خشت و سنگ کا رنگ
بس ایک رمزِ عدو پر، مرے قبیلے کی
فضا میں پھیل گیا ناوک و تفنگ کا رنگ
میں چاکِ کوزہ گراں سے اترچکا کب کا
تبھی تو ذرد ہوا ہے ہر ایک انگ کا رنگ
ہوا کے دوش پہ رقصاں ہر ایک شاخ کبیرؔ 
شجر شجر پہ چڑھا ہے کسی ملنگ کا رنگ

غزل نمبر 8
جس قدر بھی ہوا ہے ، خالی ہے
یہ جہاں کھوکھلا ہے خالی ہے
قحط نے سارے گھر اجاڑ دیے
ایک جو بچ گیا ہے ، خالی ہے
مجھ سے تُو جس مکاں کا پوچھتا ہے
وہ مرے دوست کا ہے، خالی ہے
کیسی امید روشنی کی یار؟
بام پر جو دیا ہے خالی ہے
یہ کسی کام کا نہیں ہے دل! 
مجھ سے کیوں چھینتا ہے؟ خالی ہے!
بس مجھے وہ ہی چاہیے ہے کبیرؔ 
وہ بھلا ہے برا ہے خالی ہے

غزل نمبر9
کچھ اس لئے بھی کہتے ہیں مجھ کو کبیرلوگ
رکھتا ہوں دوستوں میں ہمیشہ فقیر لوگ
جھوٹی قباپہن کے بنے دستگیر لوگ
اگلی صفوں میں بیٹھے ہوئے بے ضمیر لوگ
ہم مفلسوں کے پاس نہیں کچھ سوائے پیار
وہ چاہتی ہے گاڑیوں والے امیر لوگ
اسلاف نے ہمارے جو پہنائی تھی ہمیں
ہم ہیں اسی قمیص کے اندر اسیر لوگ
پھر شعر و شاعری پہ بحث چھڑ گئی کبیرؔ 
کل میرے خواب میں تھے فرازؔ اور میرؔ لوگ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com