آج علی حسنین تابشؔ (ملتان،پاکستان) کے ساتھ

Ali Hasnain Tabish

’’ غزل ‘‘ 
کہاں کھو گئے ہیں وہ ستا رے
رات کٹتی تھی جن کے سہارے
لہو لہو ہے دل ، ا شک با ر نگاہیں
خزاں ہُوئے وصل کے لمحات سارے 
کتابِ ماضی کے اوراق ہیں اب تو
اس کے سنگ بِیتے لمحات سارے 
اُسکا ملنا تو اِک خواب لگتا ہے
ریزہ ریزہ ہوئے دل کے ارمان سارے
انکی محفل میں مرا اِک نام ہُوا کر تا تھا
عہدے دار ہیں اب جہاں رقیب سارے
زندگی عشق میں یوں گزری ہے اپنی تابشؔ 
جیسے پھرتے ہیں بازار میں نادار سارے
(علی حسنین تابشؔ ) 

’’چاند ‘‘ 
ستاروں کے جھرمٹ میں
چمکتاچاند
میرے چاند کو دیکھ کر
شرما سا جاتا ہے
چاندنی رات میں جب !
اپنے گیسو سنوار کر 
اِک دلکش سراپا
نازک کلائیوں میں 
کلیوں کے گجرے پہن کر
چھت پہ آتا ہے 
تب!
فلک پہ چمکتا چاند
میرے چاند کو دیکھ کر
شرما سا جاتا ہے
…………………

’’ غزل ‘‘ 
کسی روز ملو تم کچھ اِس طرح سے 
سِمٹ جائیں یہ لمحات قُربتوں کے 
میں جانتا ہوں یہ ناممکن سی بات ہے
دیلھتا ہوں پھر کیوں خواب اِس طرح کے
بچھا کر راہوں میں میری کانٹے اُس نے 
پہنائے غیر کو ہار پھولوں کے 
دیکھ کر ہاتھ اُسکا ہاتھوں میں رقیبوں کے 
بہہ گئے ہیں سیلاب آنسوؤں کے 
دِلوں کے کھیل میں کچھ ملتا نہیں تابشؔ 
سوائے دردِدل زخمِ وفا اِور آنسوؤں کے
…………………………….

اے ری سکھی ! 
آنگن میں مورے 
لگا ہے اِک پیپل 
اُس کے کوڑے کو اُٹھاؤ ری سکھی
ٓآگ لگاؤری سکھی 
آنگن میں مورے
پیا کو لاؤری سکھی
اِک برہن کی پیاس بجھاؤ ری سکھی 
آؤ ری سکھی !
آؤ ری سکھی!

………………….

’’غزل ‘‘ 
آوارگی میں تابشؔ پیمانے ہُوا نہیں کرتے 
اہلِ خِرد لوگوں کیلئے میخانے ہُوا نہیں کرتے
در بہ در بھٹکتے ہیں لوگ یہاں اکژ 
؛لیکن سبھی تو دیوانے ہُوا نہیں کرتے 
سب اپنے ہی نفس کے کھیل ہیں پیارے 
ورنہ بدنام یوں قحبہ خانے ہُوا نہیں کرتے
بھول جاتے ہیں لوگ اِک دوسرے کواکثر
یادِ ماضی کے اوراق پُرانے ہُوا نہیں کرتے 
……………………

’’ غزل ‘‘ 
اِک عجب سا رشتہ بنا ڈالا اُس نے
تابش سے تابی مجھکو بنا ڈالا اُس نے 
مجھ میں آنے لگی تبدیلیاں اس قدر
اِک دیوانے سے اہلِ خرد بنا ڈالا اس نے 
میں تو ااپنی ہی مستی میں گم رہا کرتا تھا 
اپنے حُسن کا پجاری بنا ڈالا اُس نے 
ہوا کچھ یوں ہجر کی ساعتیں بنی مقدر میرا
اہلِ خِر د سے پھر اِک رند بنا ڈالا اُس نے 
حیران ہوں اِس قدر مسیحائی پہ اُسکی تابش ؔ 
خود ہی مجھکو مریضِ عشق بنا ڈالا اُس نے
………………..

’’غزل ‘‘ 
مت پوچھئے کتابِ ماضی میں کیا رکھا ہے
اُس ہرجائی کی یادوں کو سنبھا ل رکھا ہے
سپردِ خاک ہو چکی مسکراہٹیں سبھی
چہرے پہ آوارگی نے ڈیرہ لگارکھاہے
ڈدب چکا ہوتا کب کا ساگر میں لیکن ..!
یادِ ماضی کی ناؤ نے اُچھال رکھا ہے
شمع سے بھلا کیسا پروانے کا ہجر
اِن کا عجب رشتہ قدرت نے بنا رکھاہے
رُک گیا اِک مدت سے خطوط کا سلسلہ 
اِن کتابوں کے انبار میں کیا رکھا ہے
غمِ ہجر ، فراق و تنہائی نے تابشؔ 
ازل سے دل پہ قبضہ جما رکھا ہے

* علی حسنین تابش ؔ * 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com